حضرت خواجہ غریب  نوازؒ سے متعلق  ایک عقیدت مند کے چند جملے

 

سلطانِ ہند حضرت خواجہ معین الدین  چشتی سنجری اجمیری ؒ کو  خواجہ غریب  نوازؒ کے

نام سے جانا جاتا ہے۔جو اشخاص روحانی بصیرت و  وجدان  رکھتے ہیں وہ اس بات کی تصدیق کرتے آئے ہیں کہ اِس برِّ صغیرِ  ہند  پہ  صدیوں  سے قلبی  حکومت  اور  روحانی  سلطنت  کو  چلانے  والی  با برکت  ذات اِنہی  کی  ہے۔ خدا ئے نے  اور   اُسکے محبوب سلطانِ دو جہاں ﷺ نے  یہی  فیصلہ صادر فرمایا ہے کہ اِ س عظیم دھرتی کے باسیوں کو  رحمت،  برکت، خوشحالی،  کامیابی

اور ترقی  اِنہی  دِلنواز ،  زمانہ ساز ،  دانائے راز یعنی غریب نواز ؒ کے دامن سے وابستہ کر دیا جائے  اور  اِ س  ذمّےداری کو حضرتؒ نے اِس خوش اسلوبی سے نبھایا ہے کہ ایک طرف  فیض حاصل کرنے والوں کی تعداد ہمیشہ بڑھتی ہی جا رہی ہے اور دوسری طرف فیوضات کی تقسیم  میں کبھی  کِسی  طرح  کی  کمی نظر  نہیں  آئی   ۔

  قربان  جاؤں  خواجہ  کی  عظمت  و کرامت  پر۔

خواجہ تیری نگری سلامت  ، تیری چوکھٹ سلامت

(از سعید اختر)

 

 

 حضرت  خواجہ معین الدین چشتیؒ 

حضرت خواجہ معین الدین  چشتی ؒ 14 رجب ۵۳۶ ہجری (فروری   1142 عیسوی ) کو  جنوبی   ایران  کے علاقےسیستان کےایک دولت مند گھرانےمیں پیدا ہوئےآپ نسلی اعتبار سےصحیح النسب سید تھےآپ کا شجرہ عالیہ بارہ واسطوں سےامیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سےجاملتا ہے۔ آپ کےوالد گرامی خواجہ غیاث الدین حسین بہت دولت مند تاجر اور بااثر تھے۔ حالانکہ کثرت مال و دولت کو قرآن حکیم میں سب سےبڑا فتنہ قرار دیا گیا ہے۔ مگر خواجہ غیاث صاحب ثروت ہونےکےساتھ ساتھ ایک عابد و زاہد شخص بھی تھے۔ دولت کی فراوانی کےباوجود حضرت معین الدین چشتی بچپن سےہی بہت قناعت پسند تھے۔

جس زمانےمیں آپ کی ولادت ہوئی وہ بڑا پرآشوب دور تھا سیستان اور خراسان لوٹ مار کی زد میں تھےہر طرف افراتفری کا عالم تھا۔ سرسبز و شاداب علاقوں میں آگ بھڑک رہی تھی اور خوبصورت شہر کھنڈروں میں تبدیل ہو رہےتھےملت اسلامیہ میں کئی فرقےپیدا ہو چکےتھےجو بڑی سفاکی اور بےرحمی سےایک دوسرےکاخون بہا رہےتھی۔ ”ملاحدہ“ اور ”باطینوں“ کی جماعت نےپورےملک میں قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا تھا۔

یہی وہ خون رنگ اور زہرآلود فضا تھی جس نےخواجہ غیاث الدین حسین کو ترک وطن پر مجبور کر دیا۔ آپ اہل خانہ کو لےخراسان چلےآئے۔ اس وقت حضرت معین الدین چشتی کی عمر مبارک ایک برس تھی۔ خواجہ غیاث الدین حسین کا خیال تھا کہ انہیں ارض خراسان میں کوئی نہ کوئی گوشہ عافیت ضرور مل جائےگا۔ مگر گردش ایاّم کےیہاں بھی وہی تیور تھے جاں گداز فتنےیہاں بھی سر اٹھا رہےتھی۔

549 ھجری میں خونی سیلاب انسانی سروں سےگزر گیا۔ اس وقت حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی عمر 13 سال تھی۔

طوس اور نیشاپور کےشہروں میں ظالموں نےایسا ظلم کیا اور اس قدر خون بہایا کہ وہاں ایک بھی انسان زندہ نہ بچا۔ ہر طرف لاشوں کےانبار لگےہوئےتھے۔ مسجدوں میں پناہ لینےوالوں کو بھی ظالموں نےنہ چھوڑا۔ نیشاپورکےمظلوموں اور جامہ شہادت نوش کرنےوالوں میں سپاہی اور عوام ہی میں شامل نہ تھےبڑےبڑےعلماٰء  ،  فضلاء  ،      اولیا ء ،  ابرار ،  اتقیا بھی شامل تھے۔ نیشاپور جو ان دنوں علم و فضل کا گہوارہ تھا  اسےبھی خاک میں ملا دیا گیا ۔ لائبریریوں‘ درسگاہوں اور کتاب گھروں کو آگ لگا دی گئی۔

انہی پر آشوب حالات اور آفتوں سےلڑتےجھگڑتےحضرت خواجہ معین الدین چشتی نےپرورش پائی۔ اور اپنی آنکھوں سےمسلمانوں کےخون کےدریا بہتےدیکھا ۔ کبھی کبھی آپ نہایت رقت آمیز لہجےمیں اپنےوالد خواجہ غیاث الدین حسین سےسوال کرتے۔ بابا! خون مسلم کی یہ ارزانی کب تک جاری رہےگی۔ نوعمر فرزند کا سوال سن کر والد گرامی رونےلگتےاور فرماتےبیٹے! یہ خونی ہوائیں اہل ایمان کیلئےآزمائش ہیں تمہیں صبر سےکام لیتےہوئےاچھےوقت کا انتظار کرنا چاہئے۔

پھر ایک دن صبر کی تلقین کرنےوالا باپ بھی 551 ھجری کو دنیا سےرخصت ہوگیے۔ اس وقت آپ کی عمر صرف 15 سال تھی۔ آپ اس نازک اور درندگی سےلبریز دور میں ایک شفیق اورمہربان باپ کےسایہ عافیت سےمحروم ہو چکےتھےوالد گرامی کی رحلت پر آپ ہر وقت اداس رہنےلگے۔ ایسےلمحات میں آپ کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی نور نےبڑی استقامت کا ثبوت دیا اور بڑےحوصلےکےساتھ بیٹےکو سمجھایا۔
فرزند! زندگی کےسفر میں ہر مسافر کو تنہائی کی اذیتوں سےگزرنا پڑتا ہےاگر تم ابھی سےاپنی  تکلیفوں  کا  ماتم  کرنے بیٹھ گئے تو  زندگی  کےدشوار گزار  راستے کیسے طےکرو گے۔اٹھو اور پوری توانائی سےاپنی زندگی کا سفر شروع کرو۔ ابھی تمہاری منزل بہت دور ہےیہ والد سےمحبت کا ثبوت نہیں کہ تم دن رات ان کی یاد میں آنسو بہاتےرہو۔ اولاد کی والدین کیلئےحقیقی محبت یہ ہوتی ہےکہ وہ اپنےہر عمل سےبزرگوں کےخواب کی تعبیر پیش کریں۔تمہارےباپ کا ایک ہی خواب تھا کہ ان کا بیٹا علم و فضل میں کمال حاصل کرے۔ چنانچہ تمہیں اپنی تمام تر صلاحیتیں تعلیم کےحصول کیلئےہی صرف کر دینی چاہئیں۔ مادر گرامی کی تسلیوں سےحضرت خواجہ معین الدین چشتی کی طبیعت سنبھل گئی اور آپ زیادہ شوق سےعلم حاصل کرنےلگے۔ مگر سکون و راحت کی یہ مہلت بھی زیادہ طویل نہ تھی مشکل سےایک سال ہی گزرا ہو گا کہ آپ کی والدہ حضرت بی بی نور بھی خالق حقیقی سےجاملیں۔ اب حضرت خواجہ معین الدین چشتی اس دنیا میں  اکیلے رہ گئے۔
والد گرامی کی وفات پر ایک باغ اور ایک آٹا پیسنےوالی چکی آپ کو ورثےمیں ملی۔ والدین کی جدائی کےبعد باغبانی کا پیشہ آپ نےاختیار کیا۔ درختوں کو خود پانی دیتے۔زمین کو ہموار کرتےپودوں کی دیکھ بھال کرتے۔ حتیٰ کہ منڈی میں جا کر خود ہی پھل بھی فروخت کرتے۔ آپ کاروبار میں اس قدر محو ہو گئےکہ آپ کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا۔ آپ کو اس کا بڑا افسوس تھا لیکن یہ ایک ایسی فطری مجبوری تھی کہ جس کا بظاہر کوئی علاج ممکن نہ تھا۔ آپ اکثر اوقات اپنی اس محرومی پر غورکرتےجب کوئی حل نظر نہ آتا تو شدید مایوسی کےعالم میں آسمان کی طرف دیکھتےاوررونےلگتے۔ یہ خدا کےحضور بندےکی ایک خاموش التجا تھی۔ ایک دن حضرت خواجہ معین الدین چشتی اپنےباغ میں درختوں کو پانی دےرہےتھےکہ ادھر سےمشہور بزرگ حضرت
ابراہیم قندوزی کاگزر ہوا۔ آپ نےبزرگ کو دیکھا تو دوڑتےہوئےگئےاور حضرت ابراہیم قندوزی کےہاتھوںکو بوسہ دیا۔

حضرت ابراہیم قندوزی ایک نوجوان کےاس جوش عقیدت سےبہت متاثر ہوئے۔ انہوں نےکمال شفقت سےآپ کےسر پر ہاتھ پھیرا اور چند دعائیہ کلمات کہہ کر آگےجانےلگےتو آپ نےحضرت ابراہیم قندوزی کا دامن تھام لیا۔حضرت ابراہیم نےمحبت بھرےلہجےمیں پوچھا اےنوجوان! ”آپ کیا چاہتےہیں؟“۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی نےعرض کی کہ آپ چند لمحےاور میرےباغ میں قیام فرما لیں۔ کون جانتا ہےکہ یہ سعادت مجھےدوبارہ نصیب ہوتی ہےکہ نہیں۔ آپ کالہجہ اس قدر عقیدت مندانہ تھا کہ حضرت ابراہیم سےانکار نہ ہو سکا اور آپ باغ میں بیٹھ گئے۔ پھر چند لمحوں بعد انگوروں سےبھرےہوئےدو طباق لئےآپ حضرت ابراہیم کےسامنےرکھ دئیےاور خود دست بستہ کھڑےہو گئے۔

اس نو عمری میں سعادت مندی اورعقیدت مندی کا بےمثال مظاہرہ دیکھ کر حضرت ابراہیم حیران تھے۔ انہوں نےچند انگور اٹھا کر کھا لئے۔ حضرت ابراہیم کےاس عمل سےآپ کےچہرےپر خوشی کا رنگ ابھر آیا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابراہیم قندوزی نےفرمایا۔ معین الدین بیٹھ جاؤ ! ۔ آپ دو زانو  ہو کر بیٹھ گئے۔ فرزند! تم نےایک فقیر کی خوب مہمان نوازی کی ہی۔ یہ سرسبز شاداب درخت‘ یہ لذیذ پھل یہ ملکیت اورجائیداد سب کچھ فنا ہو جانےوالا ہے۔ آج اگریہاں بہار کا دور دورہ ہےتو کل یہاں خزاں بھی آئےگی۔ یہی گردش روزوشب ہےاور یہی نظام قدرت بھی۔ تیرا یہ باغ وقت کی تیز آندھیوں میں اجڑ جائےگا۔ پھر اللہ تعالیٰ تجھےایک اور باغ عطا فرمائےگا۔ جس کےدرخت قیامت تک گرم ہواؤں سےمحفوظ رہیں گے۔ ان درختوں میں لگےپھلوں کا ذائقہ جو ایک بار چکھ لےگا پھر وہ دنیا کی کسی نعمت کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھےگا۔ حضرت ابراہیم قندوزی نےاپنےپیرھن میں ہاتھ ڈال کر جیب سےروٹی کا ایک خشک ٹکڑا نکال کر حضرت خواجہ کی طرف بڑھا دیا اور فرمایا وہ تیری مہمان نوازی تھی یہ فقیر کی دعوت ہے۔ یہ کہہ کر خشک روٹی کاوہ ٹکڑا حضرت معین الدین چشتی کےمنہ میں ڈال دیا۔ پھر باغ سےنکل کر اپنی منزل کی جانب تیزی سےچل دیئے۔

حضرت ابراہیم کی دی ہوئی روٹی کا ٹکڑا اس قدر سخت اور خشک تھا کہ اس کا چبانا دشوار تھا۔ مگر آپ نےایک بزرگ کا تحفہ سمجھ کر وہ روٹی کا ٹکڑا کھا لیا۔ اس ٹکڑےکا حلق سےنیچےاترنا ہی تھا کہ حضرت معین الدین چشتی کی دنیا ہی بدل گئی۔ آپ کو یوں محسوس ہونےلگا جیسےکائنات کی ہر شےفضول ہے ۔ دوسرےہی دن آپ نےاپنی چکی اور باغ فروخت کر دیا اور اس سےحاصل ہونےوالی رقم غریبوں اورمحتاجوں میں بانٹ دی۔ عزیزواقارب آپ کی اس حرکت کو دماغی خلل بھی قرار دےرہےتھےلیکن وہ یہ سمجھنےسےقاصر تھےکہ ذہن و دل کےکس گوشےسےروشنی کی وہ لکیر پھوٹ رہی ہےجس نےدنیا کےتمام اجالوں کو دھندلا کر کےرکھ دیا ہے۔ بعدازاں آپ نے سب کچھ اللہ کی راہ میں لٹانےکےبعد تحصیل علم کیلئےخراساں کو خیرباد کہہ کر سمرقند بخارا کا رخ کیا جو اس وقت علوم وفنون کےاہم مراکز تصور کئےجاتےتھے۔ یہاں پہلےآپ نےقرآن پاک حفظ کیا۔ پھر تفسیر فقہ حدیث اور دوسرےعلوم ظاہری میں مہارت حاصل کی۔ علوم ظاہری کی تکمیل کےبعد آپ نےمرشد کامل کی تلاش میں اورعراق کا رخ کیا۔ راستےمیں اپنےزمانےکےمشہور بزرگ حضرت خواجہ عثمان  ہرونی سکونت پذیر تھے۔ حضرت خواجہ کچھ دن تک ایک عام طالب علم کی حیثیت سےحضرت عثمان ہرونی کی خدمت میں حاضر ہوتےرہے۔ مگر شیخ نےکوئی توجہ نہ دی۔ پہلےقدرےمایوس ہوئےبعدازاں ایک موقع پا کر آپ نےدل کی بات شیخ سےکہہ ہی ڈالی کہ میری دلی تمنا ہےکہ آپ مجھےمستقل غلامی کا شرف بخشیں۔ اس پر حضرت عثمان ہرونی نےفرمایا فرزند! مجھ سےاپنا ہی بوجھ نہیں اٹھایا جاتا۔ تمہارا کیسےاٹھائوں گا دراصل شیخ آپ کو ٹالنا چاہتےتھےلیکن آپ مسلسل اصرار فرماتےرہے۔

پھر ایک دن حضرت عثمان ہرونی نےآپ کو اپنےحلقہ ارادت میں شامل کر لیا۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اپنےمرشد کی خدمت میں تقریباً اڑھائی سال رہے۔ آپ پیرومرشد کی خدمت کیلئےساری ساری رات جاگتےرہتےکہ مرشد کو کسی چیز کی ضرورت نہ پڑ جائے۔

پھر ایک دن حضرت خواجہ کو مرشد پاک نےسینےسےلگا کر ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا دیئےاور دعا فرمائی۔ ”اےخدائےذوالجلال!معین الدین کو قبول فرما لے۔ اس نے بےسروسامانی کےباوجود مجھےنہیں چھوڑا تو بھی اسےزمین پرتنہا نہ چھوڑ۔ ابھی دعا کےالفاظ مکمل بھی نہ ہوپائےتھےکہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی بارش نور میں نہا گئے۔ ایک تیز شعاع دل و دماغ کو روشن کرتی چلی گئی۔ اور آپ کی آنکھوں کےسامنےسےتمام حجابات اٹھ گئے۔

معین الدین! اب کیا نظر آتا ہے؟ حضرت عثمان ہرونی نےآپ سےفرمایا۔ آپ کےصدقےمیں عرش سےتحت الثری تک دیکھ رہا ہوں۔ حضرت معین الدین چشتی نےکہا۔ اللہ کا شکر ہےکہ تم سیراب ہو گئے۔ ورنہ عشق کےصحرا میں لوگ ایک بوند کیلئےزندگی بھر ترستےرہتےہیں پھر آپ کےپاس جو شخص بھی نگاہ کرم کی بھیک مانگنےآتا تو آپ فرماتےکہ میرےپاس جو کچھ تھا وہ میں نےمعین الدین کو عطا کر دیا ہے۔

ایک اور روایت کےمطابق حضرت عثمان ہرونی حضرت خواجہ معین الدین چشتی کو لےکر مکہ معظمہ حاضر ہوئے۔ خانہ کعبہ کا طواف کرنےکےبعد آپ نےبلند آواز میں فرمایا۔ الٰہی!معین الدین حاضر ہےاپنےاس عاجز بندےکو شرف قبولیت عطا فرما۔ جواب میں ندائےغیبی سنائی دی۔ ”ہم نےاسےقبول کیا۔ بےشک! یہ معین الدین ہے۔

پھر مکہ معظمہ کےبعد  مدینہ منورہ تشریف لے گئے ۔ پھر جیسےہی سرورِکائنات ﷺ کی قربت حاصل ہوئی حضرت عثمان ہرونی نےخواجہ معین الدین چشتی کو حکم دیا۔”معین الدین! آقائےکائنات کےحضور اسلام پیش کرو۔

حضرت خواجہ معین الدین چشتی نےگداز قلب کےساتھ لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔ ”السلام علیکم یا سید المرسلین۔“ وہاں موجود تمام لوگوں نےسنا۔ روضہ رسول ا سےجواب آیا۔ ”وعلیکم السلام یا سلطان الہند“۔

اس کےبعد مرشد نےحضرت خواجہ کومبارکباد دیتےہوئےفرمایا معین الدین! تم خوش نصیب ہو کہ تمہیں دونوں مقامات پر قبولیت کی سند عطا ہوئی آئندہ بت خانہ  ہند تمہاری سرگرمیوں کامرکز ہو گا۔ اگرچہ وہاں کفر کی گہری تاریکی پھیلی ہوئی ہےلیکن تم وہاں اسلام کی شمع روشن کرنےمیں کامیاب ہو جائو گے۔ اس وسیع و عریض ملک میں صرف تم ہی سلطان کہلاؤ  گےجسےدرباررسالت  سے تاج سلطانی  عطا ہوا ہے وہ ہندوستان کےتمام بادشاہوں پر غالب آکر رہےگا۔

بعدازاں حضرت معین الدین چشتی نےاپنےمرشد کی ہدایت پر طویل عرصےتک شدید ریاضتیں کیں۔ مسلسل سات سات دن کا روزہ رکھتے۔ پھر پیرومرشد کی اجازت سےآپ تنہا حجاز مقدس پہنچے۔ حج کی سعادت حاصل کی روضہ رسول پر حاضری دینےکےساتھ ساتھ کئی ممالک کا سفر اختیار کیا۔ سفر بغداد کےدوران آپ کی ملاقات حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ سےہوئی اولیائےکرام میں حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ  کا مقام بہت بلند ہے۔ حضرت معین الدین چشتی اڑھائی ماہ تک حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ ٰکے ہاں قیام پذیر رہےاور ایک عظیم صوفی کی محبتوں سےفیض یاب ہوئے۔

اس کےبعد حضرت معین الدین چشتی بغداد میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ کچھ عرصہ یہاں قیام کیا۔ پھر آپ تبریز تشریف لےگئےاوروہاں حضرت خواجہ ابو سعید تبریزی سےفیض حاصل کیا۔ حضرت تبریزی کو تصوف کی دنیا میں ہمہ گیر شہرت حاصل ہے۔ چند دن یہاں گزارنےکےبعد آپ اصفحان  تشریف لےگئے ۔ وہاں مشہور بزرگ حضرت شیخ محمود اصفحانی کی محبت سےفیض یاب ہوئے۔ انہی دنوں وہاںایک نو عمر لڑکےکو دیکھا جو درویشوں سےنہایت عقیدت رکھتا تھا حضرت معین الدین چشتی کی آمد سےپہلےوہ لڑکا حضرت شیخ محمود اصفحانی کی ذات سےبہت متاثر تھا۔ مگر جب اس نےحضرت خواجہ معین الدین چشتی کو دیکھا  تو  ارادہ بدل دیا۔ پھر جب آپ اصفحان سےروانہ ہوئےتو وہ نو عمر لڑکا آپ کےساتھ ہی ہولیا۔ یہی نو عمر لڑکا حضرت معین الدین چشتی کی صحبت میں اولیائےہند کا تاجدار بنا۔ جسےدنیا حضرت قطب الدین بختیار کاکی کےنام سےجانتی ہی۔ آپ گنج شکر حضرت بابا فریدکےمرشد اورحضرت نظام الدین اولیاءکےدادا مرشد ہیں۔

بہرکیف حضرت معین الدین چشتی اصفحان سےخرقان تشریف لےآئےیہاں آپ نےدو سال وعظ فرمایا اور ہزاروں انسانوں کو راہِ راست پر لائے۔ پھر ایران کےشہر استرآباد تشریف لےآئےان دنوں وہاں ایک مرد کامل حضرت شیخ ناصر الدین قیام پذیر تھے   جن کا  دو  واسطوں سےسلسلہ حضرت بایزید بسطامی سےجا ملتا ہے ۔چند ماہ یہاں حضرت شیخ ناصرالدین سےروحانی فیض حاصل کیا۔ پھر ہرات کا قصد کیا۔ یہ شہر ایرانی سرحد کےقریب افغانستان میں واقع ہے۔ یہاں حضرت خواجہ عبداللہ انصاری کے مزار  مبارک  پر  آپ  کا  قیام  تھا۔ بہت  جلد  سارےشہر  میں  آپ  کے چرچے ہونےلگے۔ جب بات حد سے بڑھ گئی اور خلق خدا کی ہر لمحےحاضری کی وجہ سے وظائف  اور عبادت الٰہی میں فرق پڑنےلگا تو آپ ہرات کو خیرباد کہہ کر سبزوار تشریف لےگئے۔

سبزوار میں آپ کی آمد کو چند دن ہی گزرےتھےکہ مقامی باشندوں کی بہت بڑی تعداد یہاں کےگورنر یادگار محمد کےخلاف درخواست لےکرآپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ لوگوں نے بتایا کہ مقامی گورنر کےجابرانہ روئیےسےتنگ آکر لوگ قبروں میں  اتر گئےہیں لیکن حکومتی ظلم و زیادتی کا طوفان تھمنےکا نام نہیں لےرہا۔ لوگوں نےالتجا بھرےلہجےمیں آپ سےدرخواست کی کہ آپ اس ظالم گورنر کےحق میں دعا فرمائیں کہ اللہ اسےہدایت دےدےاور اس کی ظلم سامانیوں سےاہل شہر کو نجات مل جائے۔ آپ نےاہل شہر کی فریاد سنی اور انہیں یقین دلایا کہ خداوند تعالیٰ بہت جلد اس شہر کےرہنےوالوں پر رحم کرےگا۔۔ دوسرےدن آپ گورنر یادگار محمد کےدربار میں تشریف لےگئے۔ محل کےدروازےپر پہنچ کر آپ نےدربان سےکہا۔ ”اپنےحاکم کوخبر کرو کہ اس سےدرویش معین الدین ملنا چاہتا ہے۔“  دربان نےحاکم سبزوار کواطلاع دی لیکن یادگار محمد کا غرور انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔ اس نےغضبناک لہجےمیں دربان کو جواب دیا۔ ”میرےپاس کسی ننگےبھوکےفقیر سےملنےکاوقت نہیں ہے۔“  دربان واپس آیا اور جیسےہی اس نےیادگار محمد کےالفاظ دہرانےکی کوشش کی۔ اس کی زبان گنگ ہوگئی۔ دربان نےگھبرا کر حضرت خواجہ معین الدین چشتی کےچہرہ مبارک کی طرف دیکھا۔ اس کی روح کانپنےلگی‘ ہاتھ سےتلوار چھوٹ گئی اور وہ زمین پر گر کےبیہوش ہو گیا۔

حضرت خواجہ معین الدین چشتی کسی اجازت کےبغیر محل کےدروازےمیں داخل ہو گئے۔ دوسرےدربان کی نظر پڑی تو وہ آپ روکنےکیلئےآگےبڑھا مگر اس کابھی وہی حشر ہوا جو پہلےدربان کا ہو چکا تھا۔ پھر محل میں ایک شور سا برپا ہو گیا۔ اس سےپہلےکہ یادگار محمد صورتحال کو سمجھنےکی کوشش کرتا۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اس کےکمرےمیں داخل ہو چکےتھے۔ جہاں بیٹھ کر وہ سنگ دل حاکم انسانی تقدیروں کےفیصلےکرتا تھا۔ دربار میں ہلچل سی مچ گئی۔ حضرت خواجہ کےجلال معرفت کا یہ عالم تھا کہ جس پر نظر پڑی‘ اپنےہوش و حواس کھو بیٹھتا۔ یادگار محمد نےآپ کو دیکھا تو خوف و دہشت سےکانپنےلگا۔  ”میں وہی بھوکا اورننگا فقیر ہوں جس سےتو نےملنا بھی گوارہ نہیں کیا۔“ گورنر کےدربار میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی بارعب آواز گونجی ”میں یہاں اس لئےنہیں آیا کہ تو مجھےبندگان خدا کےخون میں ڈوبی ہوئی چند روٹیوں کی بھیک دےدےیامخلوق خدا کےجسموں کو برہنہ کر کےچند گز ریشمی کپڑا میرے حوالےکر دے۔ میں تو اس لئےآیا ہوں کہ حجت تمام ہو جائے۔ اس سےپہلےکہ تیرےاقتدار کو زمین نگل لے حق کی نافرمانیوں سےبازآجا ۔ تو جن پر ستم ڈھا رہاہے انہیں ان کی مائوں نےآزاد پیدا کیا۔ بساط ہستی پر تیری حیثیت ہی کیاہے؟ تجھ سے پہلے بڑےبڑےستمگریہاں اپنی طاقت آزما چکےہیں۔ انہیں تلاش کر کہ وہ کہاں سےآئےتھےاور کدھر گئے؟

گورنر سبزوار کے دربار  پر کسی قبرستان  کا  سا گمان ہو رہا تھا۔ حاضرین  مُردوں  کی طرح ساکت  تھے اور یادرگار محمد اپنی زرگناہ کرسی سےاتر کر نیچےآنا چاہتا تھا مگر اس کا جسم مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔

حضرت خواجہ معین چشتی جابر حاکم کےسامنےکلمات حق ادا کر کےواپس جاچکےتھےلیکن آپ کےالفاظ کی گونج ابھی تک باقی تھی۔ آپ کی باتوں سےظالم گورنر پر اس قدر اثر ہوا کہ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آپ کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔

کچھ دن بعد حضرت خواجہ معین الدین چشتی سبزوار سے”حصارِ شادماں“ تشریف لائے تو یادگار محمد بھی آپ کےہمراہ  تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ اپنی  باقی ماندہ عمر پیرومرشد کی خدمت میں بسر کرے۔ مگر پیرومرشد نےآپ کو ”حصارِ شادماں“ میں لوگوں کی رشدو ہدایت کیلئےمقرر کر دیا۔ ”حصارِ شادماں“ سےرخصت ہو کر حضرت خواجہ معین الدین چشتی بلخ تشریف لائےاورحضرت شیخ احمد خضرویہ کی خانقاہ پر قیام کیا۔ یہاں حکیم ضیاءالدین بلخی نےآپ کےہاتھ پر بیعت کی۔ بلخ کےبعد کچھ عرصےتک آپ نےغزنی میں قیام فرمایا۔ یہاں ایک رات آپ نےخواب میں سرورِکائنات ﷺ کو دیکھا۔ رسول اکرم  نےحضرت خواجہ معین الدین چشتی کو اپنی دعاؤں سےسرفراز کیا اور ہندوستان جانےکی ہدایت فرمائی۔ آپ کو دربار رسالت سےسلطان الہند کا خطاب پہلےہی مل چکا تھا لیکن روانگی کاحکم اب ملا تھا  آقائے نامدار  کی اجازت پاتےہی آپ 586 ھجری کو لاہور تشریف لائےاور سب سےپہلےحضرت داتا گنج بخش کا فیض حاصل کرنےکےبعد ملتان چلےگئے ۔ یہاں آپ نےپانچ سال تک قیام کیا اور سنسکرت زبان سیکھی۔ چونکہ آپ ہندو قوم کےسامنےاسلامی تعلیمات پیش کرنےوالےتھےاس لیےمقامی لوگوں کی زبان جاننا آپ کیلئےاشد ضروری تھا۔ ملتان کےبعد دہلی قیام پذیر ہوئے۔ یہاں سب سےلاڈلےمرید حضرت قطب الدین بختیار کاکیؒ کو چھوڑ کر خود اجمیر شریف کےخطہ زمین کو تبلیغ کیلئےمستقل طور پر منتخب فرمایا۔

زمانہ قدیم کی کتابوں میں اجمیر کو جانگیر‘ جیراگ‘ جیمزآدمیر اور جلوپور کےنام سےبھی پکارا گیا۔ اس شہر کو بسانےوالوں میں راجہ اجےپال کانام لیا  جاتا  ہے۔ لیکن اس وقت اجمیر پر پرتھوی راجہ چوہان کی حکمرانی تھی۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیر شہر کےنواح میں گھاس پھونس کی  ایک جھونپڑی بنائی  اس جھونپڑی میں نماز  کا مصلیٰ ،  پانی کابرتن  اورایک جوڑا لباس۔  شہنشاہ معرفت کا یہ کل اثاثہ تھا۔ شروع شروع میں مقامی لوگ آپ کو جوگی یا سادھو سمجھتےرہےلیکن جب لوگوں نےآپ کو قریب سےدیکھا تو وضع قطع کےاعتبار سےآپ ہندو سنیاسیوں سےمختلف دکھائی دیئے۔ پھر ایک دن کچھ راجپوت آپ کی جھونپڑی میں داخل ہوئےاس وقت حضرت خواجہ معین الدین چشتی ذکر الٰہی   میں مشغول تھے۔  راجپوت خاموش  بیٹھےرہے۔ یہاں تک کہ آپ نماز و وظائف سےفارغ ہو گئے۔ آپ نےان راجپوتوں سےآنےکی وجہ پوچھی تو راجپوتوں نےکہا کہ ہم کچھ دنوں سےآپ کو جنگل بیابان میں مصروف عبادت دیکھ رہےتھےاس لئےجاننا چاہتےہیں کہ آپ کون ہیں اور کہاں سےآئےہیں۔ اور یہاں آنےکا مقصد کیا ہے۔ آپ نےجواباً  فرمایاکہ میں مسلمان ہوں اور تمہیں اللہ کا پیغام پہنچانےآیا ہوں۔ مسلمان کا نام سن کر راجپوت چونک اٹھے۔ کیا تم شہاب الدین غوری کی قوم سےہو؟  ہاں وہ میرا دینی بھائی ہی۔ آپ نےفرمایا۔ غوری تو اپنےہمراہ  ایک لشکر جرار لےکر آیا تھا۔ مگر میں تو تمہارےدرمیان تنہا ہوں۔ پھر بھی تمہیں خدا کا پیغام سناؤں گا اور تمہیں وہ پیغام سننا ہو گا۔ اگر تم اپنےکان بند کر لو گےتو تمہاری سماعتوں میں شگاف پڑ جائیں گی۔  وہ پیغام تمہارےذہن و دل کی گہرائیوں میں اتر کر رہےگا ۔ جاؤ  اپنےگھروں کےدروازےبند کر لو۔ دل و دماغ پر پہرےبٹھا دو مگر وہ روشنی کی لکیر آہنی دروازوں سےگزر کر بھی تم تک پہنچ جائےگے۔ یہ ایک بڑا دعویٰ تھا جو ایک سرکش قوم کےدرمیان کیا جارہا تھا۔ ایک راجپوت کو آپ کی بات ناگوار گزری  اس نےتلخ لہجےمیں کہا کہ ہم اپنی زمین پر یہ سب کچھ برداشت نہیں کر سکتے۔ آپ نےفرمایا کہ یہ زمین اللہ کی ہےاگرکسی انسان کی ملکیت ہوتی تو تمہارےباپ دادا موت کا ذائقہ نہ چکھتے یا زمین کو  اٹھا کر اپنےساتھ لےجاتے۔ آپ کا یہ جواب سن کر راجپوتوں نے کہا  کہ ہم کسی  اللہ کو نہیں جانتے زمین و  آسمان  پر ہمارےدیوتائوں کی حکومت ہے۔ یہاں تمہارےرہنےکی ایک ہی صورت ہو سکتی ہےکہ تم دوبارہ اپنی زبان  پر اللہ تعالیٰ  کا نام  نہ  لاؤ گے۔ اس پر آپ نےفرمایا ”میں تو اسی کےنام سےزندہ ہوں اور تمہیں بھی اسی کےنام کی برکت سےزندہ کرنےآیا ہوں۔“ ایک راجپوت نے اللہ کا وہ پیغام سننے  کی فرمائش کی جسے آپ سنانے کے لئے اجمیر شریف تشریف لائے تھے۔ آپ نے سورۃ اخلاص پڑھ کر اس کا ترجمہ سنسکرت زبان میں سنایا۔ اور فرمایا کہ اللہ کو سب سے ناپسند اپنے ہی ہاتھوں سے بنائےہوئےبتوں کی پرستش ہے ۔ مٹی کےجو بت ایک جگہ سےدوسری جگہ خود گردش نہیں کر سکتے وہ تمہاری  مدد کیا کریں گے۔ یوں آپ نے اجمیر شریف میں پہلی اذان دےدی تھی۔ آپ کی زبان سےاپنےبتوں کےخلاف  ادا ہونے والے الفاظ سن کر راجپوت  غصےمیں  لال پیلے ہو گئے  اورتلواریں  بےنیام  ہو گئیں۔ وہ آپ کو تہہ تیغ کر دینا چاہتےتھےکیونکہ آپ نےان کےروبرو  اُن کےبتوں کی نفی کی تھی۔ جب حضرت معین الدین چشتی نےپہلی بار جلال بھرےلہجےمیں دیکھا توایک برق سی چمکی   اور راجپوتوں کےجسم پرخوف طاری ہو گیا۔ تلواریں ہاتھ سےچھوٹ گئیں پھر وہ لوگ وہاں سےبھاگ کھڑےہوئے۔ جنہوں نےآج تک میدانِ جنگ میں پیٹھ نہیں دکھائی تھی۔ جب شہر میں ایک مسلمان فقیر کی ہیبت کی شہرت سنائی دی تو بڑی تعداد میں راجپوت مسلح ہو کر  انتقام  کے ارادےسے آپ کی جھونپڑی میں آپہنچے اس وقت آپ نماز کی ادائیگی میں مشغول تھی۔ راجپوتوں نے میان سےتلوار  نکال کر نماز کےدوران ہی آپ کو (نعوذ باللہ) قتل کرنا چاہا۔ لیکن تلواروں نے ایک بار پھر نیاموں سےنکلنےسےانکار کر دیا۔ ان کےجسموں پر ایک بار پھر لرزہ  طاری ہو گیا اور وہ راجپوت فرار ہوتےہوئےچیخ رہےتھےکہ یہ تو جادوگر ہے۔

اس کےبعد راجپوتوں کی ایک اور جماعت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ آپ کےپیغام کو سنا اور اپنےآباؤ اجداد کا  مذہب چھوڑ کر ایک ایسےمذہب میں داخل ہو گئےجس کی نگاہ میں اچھوت کھتری شودر راجپوت اور برہمن سب برابر تھے۔ کفر کےقلعےمیں پہلا شگاف پڑ چکا تھا۔  مذہبی اجارہ داروں کی پیشانی پر گہری لکیریں ابھر آئیں۔ نجومیوں اور پنڈتوں نےآسمان کی طرف دیکھا ستاروں کی گردش میں ایک عجیب سا  انتشار برپا تھا۔ پراسرار علوم کےجاننےوالےحیرت زدہ تھےاور آسمان کےبروج میں کسی خوفناک انقلاب کی تصویر صاف نمایاں تھی ۔ ہندو دھرم کےرکھوالوں نےآپ کےہاتھ پر مسلمان ہونےوالوں کو طلب کیا اورپوچھا   ”آخر تمہیں اس اجنبی کےپیغام میں کیا کشش محسوس ہوئی تم نےاس کےخدا کو دیکھا ہے؟“ دین اسلام میں داخل ہونےوالےنو مسلمانوں نےکہا ہم کچھ نہیں جانتے ہمارےدل نے گواہی دی  کہ وہ سچ بولتا ہے۔ بس ہم مجبور ہو گئے۔ کچھ ناعاقبت نااندیشوں نےراجہ پرتھوی چوہان کےسامنےیہ تجویز پیش کی کہ باغیوں کی اس مختصر سی تعداد کو قتل کردیا جائےاوراسلام کےخطرےسےہمیشہ کیلئےجان چھڑا لی جائے۔ راجہ پرتھوی نےیہ تجویز قبول نہیں کی کہ مسلمان ہونےوالوں میں بہت سےبااثر ہندو قبائل کےلوگ بھی شامل تھےاس طرح ریاست میں انتشار پھیلنےکا اندیشہ تھا۔ لیکن  ان کےمعاشی بائیکاٹ کا  اعلان کر دیا گیا۔  چنانچہ وہ نو مسلم افراد حضرت معین الدین چشتیؒ  کےقدموں میں آپڑے۔ جاسوسوں نےپرتھوی راج کوخبر دی کہ معتوب راجپوت نیا مذہب قبول کر کےبہت زیادہ خوش ہیں تو وہ  آگ بگولا  ہو گیا  اورمسلمانوں کےخلاف سازشوں کےنئےجال بنُےجانےلگے۔ اسی دوران حضرت معین الدین چشتی کا ایک خادم آپ کےوضو کیلئے اناساگر تالاب سےپانی لینےکیلئےگیا تو وہاں خلاف معمول راجہ کےسپاہی تعینات نظر آئےجب خادم نےپانی سےگھڑا بھرنا چاہا تو راجپوت سپاہیوں نےسختی سےمنع کر دیا  اور کہا کہ اب تم اچھوت ہو تالاب کےپانی کو گندہ مت کرو۔ خادم نےکہا کہ پانی تو جانوروں پر بھی بند نہیں کیا جاتا۔ ہم تو پھر انسان ہیں اس پر راجپوت سپاہیوں نےکہا کہ تم حیوانوں سےبھی بدتر ہو۔ خادم نےآکر جب آپ کو سارا ماجرا سنایا تو آپ نےفرمایا کہ راجپوت سپاہیوں سےکہو کہ اس مرتبہ ایک گھڑا پانی لےلینےدو پھر ہم اپنا کوئی اور انتظام کر لیں گے   ۔ آپ کےحکم پر جب خادم دوبارہ تالاب پر پانی لینےگیا تو راجپوت سپاہیوں نےتمسخر اڑاتےہوئےکہا کہ آج گھڑا بھر لو اس کےبعد تمہیں یہاں سےپانی لینےکی اجازت نہیں ہو گی۔ چنانچہ خادم نےمرشد کےحکم کےمطابق وہ گھڑا بھر لیا۔راجپوت سپاہیوں کےساتھ ساتھ مسلمان خادم پر بھی حیرتوں کےپہاڑ ٹوٹ گئےکہ اناساگر تالاب کا سارا پانی ایک چھوٹےسےبرتن میں سمٹ آیا تھا۔ تالاب کےجس پانی پر راجپوت سپاہی تکبر کر رہےتھےوہ پانی سےخالی ہو چکا تھا۔ راجپوتوں کےنزدیک یہ جادوگری کا ایک عظیم الشان مظاہرہ تھا۔ یہ دیکھ کر راجپوت سپاہی وہاں سےخوفزدہ ہو کر بھاگ کھڑےہو گئے۔ آپ کا خادم بھی لرزتےقدموں سےواپس آیا۔ کانپتےلہجےمیں سارا واقعہ سنایا۔ آج اسےپہلی بار اپنےمرشد کی روحانی طاقت کا احساس ہو چکاتھا۔ پورےاجمیر شہر میں ہنگامہ برپا تھا اناساگر تالاب کےخشک ہونےکی خبر سب کیلئےحیران کن تھی۔ پرتھوی راج مسلمانوں کےبڑھتےہوئےاثرورسوخ کو ہر صورت میں روکنا چاہتا تھا۔ مشیروں نےاسےمشورہ دیا کہ اس مسلمان فقیر کا مقابلہ ہندو جادوگر ہی کر سکتےہیں۔لیکن اس سےپہلےشہر اجمیر کےچند معززین اناساگر تالاب کی سابقہ پوزیشن بحال کرنےکی استدعا لےکر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئےاور عرض کی کہ اگرتالاب کا پانی اسی طرح خشک رہا تو بہت سارےانسان پانی کےبغیر مر جائیں گے۔ چنانچہ آپ نےاسلام کی رواداری اور صلہ رحمی کا مظاہرہ کرتےہوئےفرمایا۔ یہ تو حق کےنافرمانوں کیلئےایک چھوٹی سی جھلک ہے۔ وگرنہ ہمارا مذہب تو کسی کتےکوبھی پیاس سےتڑپتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔ یہ فرما کر آپ نےاپنےخادم کو حکم دیا کہ ”برتن کا پانی تالاب میں واپس ڈال دیا جائے۔“ آپ نےراجپوت قوم کےنمائندوں کو دوبارہ فرمایا قدرت بار بار سرکشوں کو مہلت نہیں دیا کرتی۔ اس سےپہلےکہ تمہارےآباؤ  اجداد  پر زمین تنگ ہو جائےبت پرستی چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لےآئو۔ ورنہ دوزخ کی دھکتی آگ کیلئےتیار ہو جاؤ ۔ آپ کےارشادات سن کر بظاہر تو وہ نگاہیں نیچی کر کےخاموش کھڑےرہےلیکن ان کےدل  میں نفرتیں کچھ اور بڑھ گئیں اور ان کےسینوں میں سازش اور انتقام  کی  آگ بھڑک  اُٹھی۔

جب گھڑےکا پانی آپ کےحکم پرتالاب میں ڈالا گیا تولوگ دیکھ کر حیران رہ گئےکہ تالاب ایک بارپھر پانی سےلبالب بھرا ہوا ہے۔ بت پرستوں کیلئےیہ ایک فقیر کی جانب سےبہت بڑا پیغام تھا۔ جسےسمجھنےاوراس پرعمل کرنےکی بجائےانہوں نےپرتھوی راج کو مشورہ دیا کہ اجمیرشریف کےدراز قد‘ تنومند شادی جادوگر کو اس مسلمان فقیر کےمقابلےپر لایا جائےجو طاقتور جسم اور ساحرانہ کمالات میں اپنا ثانی نہ رکھتا تھا۔

پرتھوی راج نےساتھیوں کا مشورہ قبول کر کےشادی جادوگر کو اپنےدربار میں طلب کیا اور اسےحکم دیا کہ اپنےجادو کی بےپناہ طاقت سےدیوتائوں کی بستی کو مسلمانوں کےوجود سےپاک کر دے۔ مہاراج کی طرف سےحکم ملتےہی شادی جادوگر نےمسلمان فقیر حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی طاقت کا اندازہ کرنےکی کوشش کی اور اس نتیجےپر پہنچا کہ اسےآسانی کےساتھ شکست نہیں دی جاسکتی۔ وہ اپنےتابع شیاطین کےسہارےفقیر مسلمان سےمقابلےکی تیاریاں کرنےلگا۔ شادی نےاپنےچیلوں کو نئےمنتر سکھائےاور ساحروں کی فوج لےکر حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی طرف بڑھا۔ جیسےہی جادوگروں کی یہ جماعت حق پرستوں کےقریب پہنچی تو حلقہ اسلام میں داخل ہونے والے نئے مسلمان  گھبر ا گئے انہوں نےآپ کو جادوگروں کی یلغار سےآگاہ کیا۔

حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ  یہ کہہ کر دوبارہ اپنی نماز میں مشغول ہوگئے۔ پہلےکی طرح اب بھی ناکامی ہی ان کامقدر ہے۔

جادوگروں کی یہ جماعت اپنےمنتر پڑھتےپڑھتےاچانک ایک جگہ ٹھہر گئی  جب شادی جادو گرنےانہیں آگےبڑھنےکا حکم دیا تو انہوں نےصاف جواب دےدیا کہ ان میں آگےبڑھنےکی طاقت نہیں ہے۔

شادی جادوگر اپنےمنتر پڑھتا ہوا آگےبڑھ رہا تھا اس کی آنکھیں آگ برسا رہی تھیں  منہ سےبھڑکتےشعلےنکل رہےتھے۔ یہ ایک خوفناک منظر تھا۔ وہ بلند آواز میں یہ کہہ رہا تھا کہ مسلمان سن لیں کہ ان کی موت کا وقت قریب آچکا ہے۔ کیونکہ میری شکتی دیوتاؤں کےدشمنوں کو ہلاک کر ڈالےگی۔ یہ کہہ کر اس نےابھی تھوڑا ہی فاصلہ طےکیا تھا کہ اس کی زبان بھی بند ہو گئی۔ اچانک اس کی زبان سےرحیم رحیم کےالفاظ نکلنےلگی۔

جب شادی کےچیلوں نےاپنےگرو کا یہ حال دیکھا تو وہ غصےسےبےقابو ہو گئےاور شدید غصےکےعالم میں اپنےہی گرو کےخلاف نازیبا  الفاظ  کہنےلگے ۔ شادی جادوگر اس دشنام طرازی کو برداشت نہ کر سکا۔ آگےبڑھنےکی بجائےاپنےساتھیوں کی طرف لپکا اور اپنےہی چیلوں پر پتھر برسانےلگا۔  اس طرح شادی جادوگر نےاپنےکئی چیلوں کو پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا جو باقی بچےوہ فرار ہو گئے۔

شادی جادوگر کا جنون بڑھتا جارہاتھا۔ حضرت معین الدین چشتی نےاس بگڑتی صورتحال میں خادم کےہاتھ پانی کا ایک پیالہ بھر کر بھیجا  جیسےہی شادی جادوگر نےپیالےکا پانی پیا تو کفر کی ساری تاریکیاں دل و دماغ سےجاتی رہیں  اوربڑےعقیدت مندانہ انداز میں حضرت خواجہ کےقدموں میں گر گیا۔ اس طرح خداپرستوں کی صف میں ایک اور کلمہ گو کا اضافہ ہو گیا۔